Home » News » Saudi women started to abandon Abaya
saudi women

Saudi women started to abandon Abaya

سعودی خواتین عبایا ترک کرنے لگیں

سعودی خواتین عبایا ترک کرنے لگیںمزید: https://www.independenturdu.com/node/15986/

Posted by Independent Urdu on Thursday, September 12, 2019

روایت شکن سعودی خاتون کی اونچی ایڑھی والی جوتے سنگ مرمر کی ٹائلوں پر آواز پیدا کر رہے تھے۔ انہوں نے سر کو ایک طرف جھٹکا اور دارالحکومت ریاض کے ایک شاپنگ مال میں اکڑ کر چلتے ہوئے اپنی سانس اندر کھینچ لی۔ خاتون نے وہ عبایا نہیں پہن رکھا تھا جو پورے بدن کو ڈھانپ لیتا ہے۔
عبایا ایک ڈھیلا ڈھالا سا لباس ہے جو اصل لباس کے اوپر پردے کے لیے پہنا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر سیاہ رنگ
کا ہوتا ہے۔ قدامت پسند سعودی عرب میں عبایا خواتین کا روایتی لباس ہے جسے عام طور پر باحیا ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
گذشتہ ہفتے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ ملک میں لباس کی پابندی میں نرمی کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں پورے جسم کا پردہ لازمی نہیں ہے۔
لیکن سعودی ولی عہد کی ہمہ گیر آزادی کی مہم کے باوجود اس ضمن میں کوئی رسمی حکم جاری نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سعودی خواتین اب بھی عبایا پہنتی ہیں۔
کچھ سعودی خواتین نے عبایا کی پابندی کے خلاف سوشل میڈیا پر احتجاج بھی کیا۔ انہوں نے اپنی تصایر پوسٹ کیں جن میں انہوں نے پورے جسم کو ڈھانپنے والا عبایا الٹا پہن رکھا تھا۔ قدامت پسندوں کو غصہ دلانے کے لیے بہت سی دوسری خواتین خطرے کے باوجود اب سامنے سے اپنے عبایا کو کھلا چھوڑ دیتی ہیں یا شوخ رنگ کا عبایا پہنتی ہیں۔
مشاعل الجلود نامی خاتون نے ثقافتی بغاوت میں ایک قدم مزید آگے بڑھاتے ہوئے عبایا پہننا بند کر دیا ہے۔
33 سالہ خاتون جو پیشے کے اعتبار سے انسانی وسائل کی ماہر ہیں، گذشتہ ہفتے وسطی ریاض کے ایک شاپنگ مال میں گھومتی پھرتی دکھائی دیں۔ یہ بے حد حیرت انگیز منظر تھا کیونکہ انہوں نے جسم کے اوپر والے حصے پر گہرے نارنجی رنگ کا لباس اور نیچے ڈھیلا ڈھالا پاجامہ پہن رکھا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر لوگوں کی تیوریاں چڑھی ہوئی دیکھی جا سکتی تھیں۔ سر سے پاؤں تک پردہ کرنے والی خواتین نے انہیں ترچھی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔ بعض نے غلطی سے انہیں کوئی مشہور شخصیت سمجھا۔ ان کی طرف بڑھنے والی ایک خاتون نے سوال کیا: ’کیا آپ کوئی مشہور خاتون ہیں؟‘مشاعل الجلود نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ وہ عام سعودی خاتون ہیں۔
مشاعل الجلود اُن مٹھی بھر خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے حالیہ چند مہینوں سے عبایا پہننا چھوڑ دیا ہے لیکن اس رجحان کو نوجوان سعودی شہریوں کی جانب سے سماجی آزادیوں کو فروغ دینے کی دلیرانہ کوششوں کی ضرورت ہے جو تبدیلی کی شاہی حکومت کی گنجائش سے بڑھ کر ہو سکتی ہیں۔
25 سالہ سماجی کارکن مناہل العتیبی نے بھی عبایا ترک کر دیا ہے۔ تحیلہ سٹریٹ، جس کے دونوں جانب ریستوران بنے ہوئے ہیں، پر چلتے ہوئے ڈھیلے لباس میں ملبوس العتیبی نے کہا: ’چار مہینے سے میں ریاض میں عبایا کے بغیر رہ رہی ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا: ’میں چاہتی ہوں کہ جیسے میں رہنا چاہتی ہوں ویسے رہوں۔ میرے اوپر پابندیاں نہ ہوں۔ کوئی مجھے وہ لباس پہننے پر مجبور نہ کرے جو میں نہیں پہننا چاہتی۔‘
عبایا ہزاروں برس سے چلا آ رہا ہے لیکن اسے چند برسوں سے سعودی عرب میں پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ملک میں غیرمسلم خواتین کے لیے بھی عبایا لازمی ہے۔
سعودی عرب میں مذہبی پولیس کی جانب سے کبھی خواتین کے لیے مخصوص لباس کی پابندی پر سختی سے عمل کرایا جاتا تھا لیکن اب پولیس کا رویہ سخت نہیں رہا۔ پردہ نہ کرنے والی خواتین کو اب بھی کبھی کبھار ایک قدامت پسند معاشرے میں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑٹا ہے۔ اس معاشرے میں لباس کو اکثر حیا کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
مشاعل الجلود کہتی ہیں: ’کوئی واضح قانون موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تحفظ حاصل ہے۔ مجھے خطرہ ہو سکتا ہے۔ مذہبی شدت پسند مجھے حملے کا نشانہ بنا سکتے ہیں کیونکہ میں عبایا نہیں پہنتی۔‘
انہوں نے جولائی میں ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ریاض کے ایک اور شاپنگ مال نے انہیں عبایا کے بغیر اندر آنے سے روک دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شاپنگ مال کے محافظوں کو شہزادہ محمد بن سلمان کا انٹرویو دکھا کر قائل کرنے میں کامیاب رہیں۔ سعودی ولی نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ خواتین سے صرف ’شائستہ اور قابل احترام لباس‘ زیب تن کرنے کی توقع ہے۔ضروری نہیں وہ عبایا ہی ہو۔
ٹوئٹر پر ان کی پوسٹ کے جواب میں شاپنگ مال نے ٹویٹ کیا کہ ’عوامی اخلاقی تقاضوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو عمارت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘
سعودی شاہی خاندان کے ایک رکن نے بھی خاتون کی ٹویٹ پر تبصرہ کیا اور کہا کہ وہ اپنی شہرت چاہتی ہیں۔ شاہی شخصیت نے مطالبہ کیا کہ اس اشتعال انگیز اقدام پر خاتون کو سزا دی جائے۔
مشاعل الجلود نے کہا کہ انہیں حال ہی میں ریاض کی ایک سپر مارکیٹ میں بھی اسی قسم کے دشمنی پر مبنی رویے کا سامنا کرنا پڑا جہاں ایک مکمل طور پر باپردہ خاتون نے انہیں پولیس بلانے کی دھمکی دی۔
مشاعل نے اپنی روش برقرار رکھی ہے لیکن اب بھی انہیں کام کے دوران عبایا پہننے پر اور سر ڈھانپنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بصورت دیگر ان کی نوکری خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
من مانے انداز میں نافذ دکھائی دینے والے قانون کے تحت سعودی وزارت محنت نے اپنی ویب سائیٹ پر کہا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین سے ’حیا اور اچھی طرح باپردہ’ رہنے کی توقع ہے۔ انہیں کوئی ’باریک‘ لباس نہیں پہننا چاہیے۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں سینما گھر، موسیقی کے مخلوط پروگرام اور ڈرائیونگ کی اجازت سمیت خواتین کو زیادہ آزادی دے کر معاشرے کی انتہائی قدامت پسندی کی ساکھ تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔
معاشرتی آزادی کے حصے کے طور پر سعودی حکومت نے کئی بین الاقوامی گلوکاروں، جن میں نکی میناج بھی شامل ہیں، کو ملک میں آ کر پرفارم کرنے کی دعوت دی۔ یہ امریکی گلوکارہ اپنے گانوں کی ویڈیوز میں باریک لباس زیب تن کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں۔
حال ہی میں ایک سعودی خاتون کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’نکی میناج اپنی کمر ہلانے جا رہی ہیں اور ان کے گانے سیکس کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر کوئی مجھے عبایا پہننے کے لیے کہہ رہا ہے۔ یہ کیا بکواس ہے؟‘
بعدازاں امریکی گلوکارہ نکی میناج نے اپنا دورہ سعودی عرب منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے ملک میں انسانی حقوق کے خراب ریکارڈ کو جواز بنایا تھا۔
سعودی عرب کی زیادہ تر نوجوان آبادی (جو زیادہ آزادیوں کی حامی ہے) اور قدامت پسندوں کے درمیان جذباتی کشمکش دکھائی دیتی ہے۔ قدامت پسند حکومتی اصلاحات کو غیر اسلامی خیال کرتے ہیں۔
لیکن مشاعل الجلود کا موقف ہے کہ ’عبایا کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’اگر ایسا ہوتا تو ملک سے باہر جانے والی خواتین اسے نہ اتارتیں۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*