Home » International » Indian Can Attack On AJK At Anytime Sardar Masood Khan

Indian Can Attack On AJK At Anytime Sardar Masood Khan

صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کسی بھی وقت آزاد کشمیر پر حملہ کرسکتا ہے ، جنگ کے امکانات ضرور ہیں کسی بھی وقت حالات بگڑ سکتے ہیں ، لائن آف کنٹرول کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے گزشتہ دوہفتوں کے درران 35 کے قریب شہادتیں ہوچکی ہیں جبکہ متعدد شہری زخمی اور املاک تباہ ہوگئیں ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 10 لاکھ فوجی تعینات کررکھے ہیں 7 لاکھ فوجی پہلے سے موجود تھے جبکہ 5 اگست کو مزید ایک لاکھ 80 ہزار فوجی مقبوضہ کشمیر میں بھیج کر مکمل کرفیو لگا دیا گیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر ہائوس اسلام آباد میں ملنے والے اے سی پی این ای کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی قابض فوج کشمیریوں پر طرح طرح کے مظالم کررہی ہے روزانہ ایک درجن کشمیری محاصرے اور نام نہاد آپریشن میں مارے جارہے ہیں ،بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے اپنی ریاست ہی نہیں بلکہ یونین بنا دیا ہے جس کے تحت جو بھی احکامات جاری کیے جائیں گے وہ برائے راست نئی دہلی سے جاری کیے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری اطلاعات کے مطابق 6000 ہزار کشمیری قابض بھارتی فوج کی زیر حراست ہیں جنہیں کشمیر سے باہر بھارت کی مختلف جیلوں میں قیدمنتقل کیا گیا ہے ان میں بچے بھی شامل ہیں اکثر قیدیوں کو ذہنی ٹارچر کیا جارہے، بعض کشمیری قیدیوں کو شمالی ہندوستان کی جیلوں میں قید کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہے،مقبوضہ کشمیر میں بہادر کشمیری عوام کرفیو کے باوجود اپنے حق کیلئے احتجاج کررہے ہیں پانچ اگست کے بعد 10 ہزار کشمیری مزاحمت کرچکے ہیں جن میں 300 سنگ باری کے کیسز ہیں ، صدر آزاجموں وکشمیر نے کہا کہ کرفیو کے باوجود بھارت نے مقبوضہ وادی میں جب سکول کھلے تو وہ سب ویران تھے خوف و ہراس اور عدم تحفظ کی وجہ سے کوئی بھی اپنے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے کیلئے تیار نہیں، مقبوضہ کشمیر میں تمام عمارتوں کو تالے لگے ہوئے ہیں۔

ہندوستان معصوم کشمیریوں پر بے تحاشا طاقت کا استعمال کررہا ہے جیسے جنگ کے عام حالات میں بھی نہیں کیا جاتا اس کے ساتھ ساتھ ممنوعہ بم اور کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کرتے ہوئے گھروں کے گھر تباہ کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ جینو سائیڈ واچ نے جو الرٹ جاری کیا ہے اس میں واضح کیا گیا ہے کہبھارت نے کشمیر میں ہندو فوجیوں کو تعینات کیا ہے جو مسلمانوں پر بدترین تشدد کررہے ہیں جبکہ بھارت آخری آپشن کے طور پر سوچ رہا ہے کہ کشمیریوں کو بند کر کے انہیں قتل کردے خدشہ ہے بھارت کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل عام کرنے جارہاہے ایسے حالات میں ہمیں سیاسی او رسفارتی مہم کو مزید تیز کرنا ہوگا۔مودی کا ایجنڈا مسلم دشمن ہے سلامتی کونسل کے اجلاس میں فرانس ، برطانیہ اور امریکہ نے نیوٹرل کردار ادا کیا جبکہ روس اور چین نے پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کی، سلامتی کونسل کو چائیے تھا بہت پہلے مقبوضہ کشمیر کے حالات پر اجلاس طلب کرتا نہ کہ پاکستان کی جانب سے ریکوزیشن پر اجلاس بلایا جاتا ۔ کیا مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے اس سے اقوام متحدہ بے خبر ہے ایسا ہر گز نہیں اس وقت دنیا کے امن اور سلامتی کو خطرہ ہے اس کی ذمہ دار سلامتی کونسل ہے جس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف غیر رسمی اجلاس پر ہی اکتفا نہ کرئے بلکہ ایسی صورتحال کا نوٹس لے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*