Home » News » Fake accounts case: Asif Zardari snatches journalist’s cellphone for asking a question

Fake accounts case: Asif Zardari snatches journalist’s cellphone for asking a question

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری نے آج اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سوال پوچھنے پر صحافی سے موبائل فون چھین لیا تاہم کچھ دیر بعد واپس بھی کردیا۔

نجی ٹی وی کے نمائندے نے سابق صدر آصف علی زرداری سے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کو جج ارشد ملک کی عدالت سے انصاف کی امید ہے؟

سابق صدر آصف علی زرداری اورانکی ہمشیرہ فریال تالپور اور دیگر کے خلاف مبینہ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کی۔

نیب نے فریال تالپور کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ گزشتہ ریمانڈ پر ایک دن بھی تفتیش نہیں ہو سکی،فریال تالپور کا جس دن ریمانڈ ہوا اُسی دن اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لے پروڈکشن آرڈر پر کراچی چلی گئیں۔

عدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں مزید 14روز کے لئے 22جولائی تک نیب کے حوالے کردیا۔

جیل سپرنٹنڈنٹ ملیر عدالت میں پیش ہوئے اور کیس کے ملزم انور مجید کی عدم منتقلی پر شوکاز نوٹس کا جواب پیش کر دیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا گیا۔

انہوں نے اپنے جواب میں لکھا کہ خرابی صحت کی وجہ سے انور مجید کو اسلام آبادمنتقل نہیں کیا جا سکا۔

جج نے پوچھا آپ کیا کہتے ہیں کیس چلے نہ چلے وہ کراچی ہی رہیں گے؟ اس مسئلے کا حل کیا سوچا ہے؟ آپ نے کیا کرنا ہے؟

جیل سپرنٹنڈنٹ نے عدالت کو بتایا کہ انور مجید 78 سال کے ہیں اور شدید بیمار ہیں۔ انور مجید کو نہ جہاز نہ ہی گاڑی کے ذریعے لایا جا سکتا ہے۔

ارشد ملک نے پوچھا وہ پہلے کیسے چلتے پھرتے تھے ؟

ہوم سیکرٹری سندھ نے اس پر عدالت کو بتایا کہ انور مجید کو سپریم کورٹ نے بھی طلب کیا تھا،طبی وجوہات پر ہی انور مجید کو سپریم کورٹ بھی نہیں لایا جا سکا تھا ۔چیف جسٹس نے خود کراچی میں اسپتال کا دورہ کیا تھا جس کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیاتھا۔میڈیکل بورڈ کی تجویز پر سپریم کورٹ نے بھی انور مجید کو حاضری سے استثنیٰ دیا تھا۔

مبینہ جعلی بنک اکاؤنٹس ریفرنس میں آصف علی زرداری، فریال تالپور ، حسین لوائی اور زین ملک سمیت 30 ملزمان نامزد ہیں۔

آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئےتھے کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو احتساب عدالت جانے کی اجازت نہیں تھی۔

احتساب عدالت کے اندر ،باہر اور گردونواح میں پولیس کی بھاری نفری سمیت رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کئے گئ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*