Home » News » کیا کشمیر کے معاملہ پر عمران خان واقعی کچھ کر لے گا ؟ موجودہ کشیدہ حالات پر عارف نظامی کی پیشگوئی

کیا کشمیر کے معاملہ پر عمران خان واقعی کچھ کر لے گا ؟ موجودہ کشیدہ حالات پر عارف نظامی کی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) بھارت جو انتہائی ڈھٹائی سے یہ کہتا رہا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے، اب نریند رمودی کی قیادت میں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جتنا پارٹی نے اپنے انتخابی وعدے پر عمل کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370اور35 اے کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔
نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی مقام حاصل تھا اور آرٹیکل ریاست کو آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا تھا۔اب تک تو بھارت کا اصرار رہا ہے کہ کشمیر پر پاکستان سے مناسب وقت پر دوطرفہ بات کریں گے لیکن عملی طور پر بھارت نے کبھی پاکستان کے لیے اس اہم ترین مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت نہیں کی۔ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے موقع پر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی، ان کے مطابق نریندرمودی نے اوسا کا میں حالیہ جی 20سربر اہی اجلاس کے دوران درخواست کی تھی کہ کشمیر پر پاکستان سے بات چیت کرا دیں۔ بعدازاں ٹرمپ نے اپنے پہلے بیان میں تھوڑی ترمیم کرتے ہوئے کہا مودی اور عمران خان پوری طرح بات چیت کرنے کے اہل ہیں اور امریکہ ان کی مددکر سکتا ہے۔ لیکن مودی نے تو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے جس کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد بھارتی صدر نے توثیق بھی کردی ہے ٹرمپ کی پیشکش کا جواب دے دیا ہے۔ بعض بھارتی تجزیہ کاروںکا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فوری فیصلہ کر کے ٹرمپ کی’پیشکش‘‘کا دانستہ جواب دیا ہے۔ اب نہ رہے بانس نہ بجے گی بانسری کے مصداق بھارت یہ کہے گا کہ کشمیر تو کسی دوسرے بھارتی صوبے کی طرح ہی اس کا حصہ ہے، اس پر بات چیت کیونکر ممکن ہو سکتی ہے یہ تو بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ آرٹیکل 370کے تحت ریا ست جموں وکشمیر کو ایک خصوصی مقام حاصل تھا

اور کوئی بھارتی شہری وہاں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا۔ لیکن اب کشمیری مسلمانوں کوبجا طور پر یہ خدشہ ہے کہ وہاں بھارتی ہندو جوق درجوق جا ئیدادیں خریدیں گے اور کشمیر میں مسلمانوں کی واضح اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی مذموم کوشش کی جائے گی۔ مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنے یار اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کی تقلید کی ہے، جس طرح نتن یاہوفلسطینیوں کے علاقوں بالخصوص مغربی کنارے اور غزہ میں یہودیوں کی خصوصی آبادیاں بنا رہا ہے، خدشہ ہے کہ یہی عمل مقبوضہ کشمیر میں دہرایا جائے گا۔جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا قدم کسی ریفرنڈم کے تحت ہوتا تو ظاہر ہے کہ جمہوری طریقے سے رائے شماری میں بھارت کو عبرتناک شکست ہوتی لہٰذا کشمیریوں کی اکثریت بھارتی فوج کی سنگینوں تلے ظلم وستم کا بازار گرم کر کے ختم کی جارہی ہے۔ اگر وہاں کے عوام بھارت کے ساتھ ہوتے تو وہاں پہلے ہی چھ لاکھ سے زائد فوج موجود ہے، اسے مزید کمک نہ بھیجنا پڑتی۔ پاکستانی سرحد پر بھی بھارتی فوج کی بڑی تعداد متعین ہے، بھارتی فوج نے تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ تمام فوجی و فضائی اڈوں پر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ کشمیری عوام بھارت کی اس ڈھٹائی اور بربریت کی خلاف پہلے ہی علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں لیکن اب مزاحمت کی تحریک مزید زور پکڑ جائے گی۔ حریت کا نفرنس کی لیڈر شپ تو پہلے ہی گرفتار ہے لیکن پیش بندی کے طورپر عمر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے نئی دہلی کے حامی سیاستدانوں کوبھی نظر بند کرد یا گیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*