Home » News » پولیس اہلکار کو تھپڑ کیوں مارا؟مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا،انتہائی سنگین الزام عائد

پولیس اہلکار کو تھپڑ کیوں مارا؟مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا،انتہائی سنگین الزام عائد

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پولیس اہلکار کو تھپڑ میرے ساتھ تضحیک آمیز حرکت کی وجہ سے مارا،پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا نعرہ لگانے والے آج خواتین کے عزتوں پر حملے کرارہے ہیں،پولیس اہلکار نے میرے ساتھ بدتمیزی کی اور دھکا دیا،میں احتساب عدالت لاہور جارہی
تھی تو پولیس اہلکاروں نے مجھے زبردستی روکا،پولیس کی جانب سے لیگی ورکرز پر تشدد قابل مذمت ہے۔عظمیٰ بخاری نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا پولیس اہلکار کو تھپڑ میرے ساتھ تضحیک آمیز حرکت کی وجہ سے مار۔نئے پاکستان میں ساسی خواتین ورکرز کی بھی عزت محفوظ نہیں رہی۔پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا نعرہ لگانے والے آج خواتین کے عزتوں پر حملے کرارہے ہیں۔سلیکٹڈ وزیر اعظم کیخلاف اپوزیشن کا جو بھی مرد یا عورت بولے گا اس کی زبان پر تالہ لگادیا جائے گا۔نواز شریف اور مریم نواز کو تنہا کرنے کا سلیکٹڈ وزیراعظم کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دینگے۔مسلم لیگ ن کا ورکر اپنی قیادت کے ساتھ کھڑا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا 27 فروری سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔بھارتی فوجی جنرل نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی فوج لائن آف کنٹرول سے دراندازی کروا رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارتی جنرل کا بیان ہمیشہ کی طرح جھوٹ کا پلندہ ہے اور بھارت دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے جنگ کے بہانے تراش رہا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہندوستان ایسے جھوٹ سے لائن آف کنٹرول پر کارروائی کا بہانہ تراش رہا ہے، لیکن اگر بھارتی فوج نے ایسی کوئی مہم جوئی کی تو پاکستان اسے 27 فروری سے بھی زیادہ سخت جواب دے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انڈیا مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال اور مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر مکمل پابندی ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں ایسا نہیں ہے، عالمی میڈیا اور اقوام متحدہ کے مبصرین حقائق دیکھنے کے لیے آزاد کشمیر کا دورہ کر سکتے ہیں، لیکن کیا بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں میڈیا اور اقوام متحدہ کے مبصرین کو دورے کی اجازت دے سکتی ہے؟۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہزاروں انڈین فوجی کئی دہائی سے جاری بہادر کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو دبا نہیں سکے اور اب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی مزید نفری کی تعیناتی بھی ناکام ہوگی۔ واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور35 اے کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ بھارتی فوج نیکشمیریوں کے احتجاج کو کچلنے اور ان کی آواز دبانے کے لیے مظلوم کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے اوراب تک سیکڑوں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیاجاچکاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*