Home » News » پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے بعد آرمی چیف کے عہدے کی دوڑ سے کون کون باہر ہوا؟

پاکستان کے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے بعد آرمی چیف کے عہدے کی دوڑ سے کون کون باہر ہوا؟

آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے باعث پاکستان آرمی کے متعدد لیفٹیننٹ جنرل اب فور سٹار کے عہدے کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں جبکہ آئندە تین برسوں کے دوران فوج سے آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر ریٹائر ہونے والے تهری سٹار جنرل 20 سے زیادہ ہیں۔

رواں برس اس توسیع سے متاثر ہونے والوں میں سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ستار ہیں، جن کا تعلق 70ویں لانگ کورس سے ہے اور وە اس وقت فوج کی سٹریٹیجک پلانز ڈویژن کی سربراہی کر رہے ہیں۔ ان کے علاوە فوج کے مرکزی اور اہم ترین عہدوں میں سے ایک پر تعینات لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا ہیں، جو کہ جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل سٹاف ہیں۔ ان کا تعلق فوج کے اکہترویں لانگ کورس سے ہونے کے باعث وە سینیارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

72ویں لانگ کورس کے لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز اور 73ویں کورس کے لفیٹیننٹ جنرل نعیم اشرف بالترتیب کور کمانڈر کراچی اور ملتان تعینات ہیں۔

اس بات کا بهی امکان ہے کہ ان میں سے ایک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر تعینات ہوں گے۔ واضح رہے کہ کسی بهی لانگ کورس سے فور سٹار کے عہدے کے انتخاب کے بعد ان سے سینیئر افسران کے استعفے کی روایت موجود ہے، لہذا 73ویں لانگ کورس سے اس برس چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے لیے سینیارٹی میں جونیئر افسر کی تعیناتی کی صورت میں کئی تهری سٹار جنرلوں کے ریٹائر ہونے کا امکان ہوگا۔

فور سٹار کے عہدے پر ترقی کا عمل

خیال رہے کہ پاکستان آرمی میں ضروری نہیں کہ سب سے سینئر کورس سے تعلق رکهنے والوں کو ہی فور سٹار کے عہدے پر ترقی دی جائے۔ افسر کی سینیارٹی کا تعین پہلے لانگ کورس سے ہوتا ہے، اور ایک ہی لانگ کورس کے متعدد افسران کا رینک ایک ہی ہو تو سینارٹی کا تعین پی اے یعنی پاک آرمی نمبر سے ہوتا ہے۔

جیسا کہ جنرل راحیل شریف کا تعلق پاکستانی فوج کے لانگ کورس چون سے تها، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد کا تعلق باون لانگ کورس سے تها تاہم انہی کے کورس کے جنرل ہارون سپرسیڈ ہو گئے تهے۔

اگلے تین برسوں میں ریٹائرمنٹ

ان تین برسوں میں ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرلز میں کور کمانڈر منگلا ندیم زکی منج، کور کمانڈر لاہور ماجد احسان، ٹین کور کے کمان کرنے والے بلال اکبر، کور کمانڈر پشاور مظہر شاہین، کوئٹہ کے عاصم سلیم باجوە، گوجرانوالہ کے عاصم منیر اور کور کمانڈر بہاولپور سید محمد عدنان شامل ہیں۔

ان کے علاوە پرنسپل سٹاف افسران میں چیف آف لاجسٹکس سٹاف اظہر صالح عباسی، آئی جی ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن لیفٹننٹ جنرل شیر افگن، کمانڈنٹ اے ایس ایف سی قاضی اکرام، کمانڈ ایئر ڈیفنس حمود الرزمان، ملٹری سیکٹری لیفٹننٹ جنرل محمد عبدالعزیز، انجینیئر ان چیف لیفٹننٹ جنرل معظم اعجاز، کوارٹر ماسٹر جنرل عامر عباسی شامل ہیں۔

دیگر میں ایس پی ڈی کے سربراە کے علاوە صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض، صادق علی جو کہ چیئرمین پی او ایف ہیں، ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا کے سربراە لیفٹیننٹ جنرل عبداللە ڈوگر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل شامل ہیں۔

2022 میں کیا صورتحال ہوگی

موجودە آرمی چیف اب توسیع کے بعد جب 2022 میں ریٹائر ہوں گے تو اس وقت 76ویں لانگ کورس کے افسران سینئر ترین ہوں گے۔ اور اگر اسی کورس سے اگلا آرمی چیف بنایا گیا تو ان میں سینیارٹی کے لحاظ سے سب سے اوپر لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا ہوں گے، دوسرے نمبر پر ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، تیسرے نمبر پر آئی جی سی اینڈ آئی ٹی نعمان محمود جبکہ اسی کورس سے تعلق رکهنے والے ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراە لیفٹننٹ جنرل فیض حمید ہیں۔ ‎

خیال رہے کہ ان چاروں لیفٹننٹ جنرلز میں سے کسی ایک نے بهی تاحال کسی کور کی کمان نہیں سنبھالی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*