Home » News » پاکستان الرجی متاثرہ ممالک میں شامل!کتنے فیصدلوگ اس مرض میں مبتلا ہیں؟ورلڈ الرجی آرگنائزیشن عوام کو بچانے کیلئے میدان میں آگئی

پاکستان الرجی متاثرہ ممالک میں شامل!کتنے فیصدلوگ اس مرض میں مبتلا ہیں؟ورلڈ الرجی آرگنائزیشن عوام کو بچانے کیلئے میدان میں آگئی

اسلام آباد(|نیوز ایجنسی) دنیا بھر میں فوڈ الرجی کی بڑھتی ہوئی خطرناک صورتحال پر ورلڈ الرجی آرگنائزیشن عوام کو بچانے کے لیے میدان میں آگئی پاکستان سمیت دنیا بھر میں الرجی کا ویک 7 اپریل سے منانے کا اعلان کردیا ،امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں فوڈ الرجی سے سالانہ دو سو سے زائد اموات ہونے لگی جب کہ ہر تین منٹ میں فوڈ الرجی سے متاثرہ ایک مریض ہسپتال لایا جانے لگا عالمی ماہرین نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس بچاؤ کے لیئے ایمرجنسی اقدامات اٹھانے پر زور دیا بصورت دیگر شدید نقصانات ہونے کے امکانات ظاہر کردیئے ، انٹرنیشنل کنسلٹنٹ الرجی استہماں کے ماہر اور محقق ،الرجی سینٹر راولپنڈی اسلام آباد کے بانی ڈاکٹر شاہد عباس کی قائم کردہ پاکستان الرجی استہماامنالوجی سوسائٹی (paais) کو بھی ورلڈ الرجی آرگنائزیشن کی تسلیم شدہ جنہیں واحد رکن ممبر ہونے کا اعزاز حاصل ہے نے بھی پاکستان بھر میں فری الرجی کیمپ ، سیمینارز ، واک اور دیگر ذرائع سے عوام میں اس خطرناک مرض سے بچاؤ کی تدابیر علامات اور علاج کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیئے بھر پور اقدامات اٹھانے کا اعلان کردیا اس حوالے سے ڈاکٹر شاہد عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان الرجی کا شکار ایک بڑا ملک ہے یہاں 42 فیصد سے لے کر 50 فیصد لوگ الرجی کے مرض میں مبتلا ہیں مگراس حوالے سے آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے نتیجے میں الرجی کے مریض دیگر ادویات کے ذریعے اس بیماری پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس سے انہیں دیگر بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں انہوں نے کہا کہ فوڈ الرجی عالمی سطح پر ایک وبا کی صورت اختیار کر رہی ہے اور پاکستان میں بھی آنے والے چند سال اس حوالے سے انتہائی تشویشناک اور خطرناک ہیں اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا نجی اور حکومتی سطح پر اقدامات نہ اٹھائے گئے اور الرجی کے حوالے سے کام کرنے والے اداروں کی سپورٹ نہ کی گئی تو صورت حال بہت زیادہ خراب ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ فوڈ الرجی سے انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے مریض کے لیے وہ آدھا گھنٹہ بہت اہم ہوتا ہے اور یہ مرض صرف پاکستان میں ہی نہیں انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں بڑے پیمانے پر موجود ہے انہوں نے کہا کہ الرجی کی کئی اقسام ہیں لیکن اس میں ایک خطرناک ترین قسم فوڈ الرجی کی ہے جسے فوڈ الرجی شوک ، فوڈ الرجی ری ایکشن ، فوڈ الرجی ان آف ایکشن کے نام دیے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ایسے مریضوں کے لیے بچاؤ کی تدابیر بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ جو انجیکشن عالمی سطح پر 200 ڈالر کاہے وہ پاکستان میں محض چالیس سے پچاس روپے کا ہم نے تیار کیا ہے۔ اور فوڈ الرجی سے متاثرہ مریضوں کو ایمرجنسی کی حالت میں اس کو خود ہی لگانا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ایپی نفریت انجیکشن لائف سیونگ ہے اور اس کو استعمال کرنے کا طریقہ مریض کو آنا بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس انجکشن کو عوامی مقامات اور ہسپتالوں میں موجود دوائیوں کے سٹورز پر لازمی رکھنا چاہیے جبکہ بڑے ہاسپٹلز کی ایمرجنسی میں فوڈ الرجی سے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجہ کے لیے اینا فلیکسس Anaphylaxis یونٹ الگ سے قائم کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ورلڈ الرجی ویک کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت سمیت دیگر بڑے شہروں میں واک سمینارز اور عوامی شعور کی بیداری کے حوالے سے مختلف تقریبات کا اہتمام پائیز کے زیرانتظام کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*