Home » News » میں نے یہ نہیں کہا تھا ، میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ۔۔۔۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی پر الزام لگانے والے حاصل بزنجو نے ناقابل یقین یوٹرن لے لیا

میں نے یہ نہیں کہا تھا ، میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ۔۔۔۔ پاک فوج اور آئی ایس آئی پر الزام لگانے والے حاصل بزنجو نے ناقابل یقین یوٹرن لے لیا

کراچی( ویب ڈیسک ) پاکستان کے ایوانِ بالا کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تحریکِ عدم اعتماد کی ناکامی پر متحدہ اپوزیشن کے امیدوار میر حاصل بزنجو بڑی مصیبت میں پھنس گئے ۔ انھوں نے اپنی سینیٹ کی انتخابات میں ناکامی کا ذمہ دار آئی- اس-آئی
کے سر براہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید کو قرار دے دیا۔ بی بی سی کے نمائندہ ریاض سہیل کی خصوصی رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نیشنل پارٹی کے رہنما اور پاکستان کے ایوان بالا میں چیئرمین کے لیے متحدہ اپوزیشن کے امیدوار میر حاصل بزنجو نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں بتایا کہ وہ ماضی کے ٹریک ریکارڈ کی بات کر رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’آپ نے آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) دیکھی، آپ نے جنرل حمید گل کو دیکھا، آپ نے اسد درانی کو دیکھا۔ اصغر خان کیس سب کے سامنے ہے۔ فیض آباد دھرنے کے جو ویڈیو کلپ سامنے آئے وہ بھی لوگوں نے دیکھے۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی کو جس طرح نکالا گیا، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے جن کمنٹس پر ٹرائل ہو رہا ہے، ان تمام کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے۔‘میں نے جو بات کی ہے اس کا جواب عدالت کو دوں گا اور مجھے تین عدالتوں میں بلایا گیا ہے۔ میں نے ادارے کی بات نہیں کی، سربراہ کی بات کی ہے۔ میں نے جنرل فیض کی بات کی تھی ۔واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج میں ناکامی کے بعد مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار حاصل بزنجو نے اپنی شکست پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے مرکزی انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مبینہ عمل دخل کے حوالے سے الزام عائد کیا تھا اور 14 سینیٹرز نے اپوزیشن اتحاد سے روگردانی کرتے ہوۓ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کی خلاف ووٹ دیا تھا۔ 3 ووٹوں کی کمی کے باعث اپوزیشن کے متفقہ امید وار میر حاصل بزنجو کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*