Home » Islam » مادھو لال کی اصل کہانی : ایک ہندو لڑکے کے عشق میں مبتلا ہو کر ساری دنیا کی مخالفت مول لینے والے حضرت شاہ حسین کے عشق کی پاکیزگی کیسے ثابت ہوئی ؟ لاہور کے میلہ چراغاں کے تناظر میں ایک سچا واقعہ ملاحظہ کریں

مادھو لال کی اصل کہانی : ایک ہندو لڑکے کے عشق میں مبتلا ہو کر ساری دنیا کی مخالفت مول لینے والے حضرت شاہ حسین کے عشق کی پاکیزگی کیسے ثابت ہوئی ؟ لاہور کے میلہ چراغاں کے تناظر میں ایک سچا واقعہ ملاحظہ کریں

لاہور (ویب ڈیسک) مسلم دانشورعموماً اِس بات پر متفق ہیں کہ اسلام کا حقیقی تصوف پہلی صدی ہجری تک اپنی اصل صورت میں قائم رہا،اس کے بعد جس جس علاقے میں پہنچا، وہاں اس نے مقامی اثرات قبول کر لئے۔برصغیر میں عموماً اور پنجاب میں خصوصاً جو تصوف متعارف ہُوا اس پر مقامی رنگ بہت گہرا تھا۔

نامور صحافی خالد ہمایوں اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس کی ایک بڑی نمایاں مثال لاہور کے قادری سلسلے کے ایک صوفی بزرگ حضرت شاہ حسین لاہوریؒ ہیں۔ وہ 1538ء945/ھ میں ٹکسالی دروازے کے اندر ایک جولاہے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد کا نام شیخ عثمان تھا۔ان کے دادا کلجس رائے فیروز شاہ تغلق عہد میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ شاہ حسین کو نزدیک کی ایک مسجد میں حافظ ابوبکر کے پاس دینی تعلیم کے حصول کے لئے بٹھایا گیا۔ حصولِ تعلیم کے دوران ہی آپ کی ملاقات ایک قادری بزرگ شیخ بہلول دریائی ؒ سے ہو گئی۔ شاہ حسین نے انہیں بڑے ادب و احترام کے ساتھ وضو کروایا تو وہ بزرگ اتنے متاثر ہوئے کہ اپنے روحانی تصرف سے شاہ حسین کو پورا قرآن مجید حفظ کروا دیا،چنانچہ آنے والے ماہِ رمضان کے دوران شاہ حسین نے نمازِ تراویح میں پورا قرآن مجید سُنا دیا۔شیخ بہلول نے جاتی دفعہ انہیں بیعت بھی کیا اور حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر حاضری دینے کی تاکید بھی کی تھی۔شاہ حسین نے بارہ سال تک معمول بنائے رکھا کہ رات بھر راوی کنارے عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے اور صبح نمازِ فجر کی نماز حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر آ کر ادا کرتے۔(یاد رہے اُس وقت دریائے راوی موجودہ شاہی قلعے کی دیوارچھو کر گزرتا تھا)۔مرشد کی ہدایت موجب آپ دن کے وقت روزہ رکھتے اور رات راوی کنارے عبادت و ریاضت میں گزار دیتے۔انہی اشغال میں کئی برس بیت گئے۔بتایا جاتا ہے کہ ایک دفعہ

آپ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے۔ امام صاحب نے جب قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی کہ وما الحیوٰۃ الدنیا الا لہووًا لعب ،یعنی دُنیا تو سوائے کھیل تماشے کے کچھ نہیں تو آپ ہنس پڑے اور ہنستے ہنستے مسجد سے باہر آ گئے۔ اسی مجذوبی کیفیت میں سرمنڈوا دیا، داڑھی کے معاملے میں بھی صفا چٹ ہو گئے تو گیروے کپڑے پہن لئے اور ناچنا گانا شروع کر دیا۔ہاتھ میں اکثر شراب کی صراحی ہوتی، جو شخص مرید ہونا چاہتا اُسے پہلے شراب کے دو گھونٹ پینے کو کہتے،جو پی لیتا اس کی روحانی اور عملی زندگی میں انقلاب آ جاتا۔اسی مجذوبیت کے دور میں آپ ایک دن دریائے راوی کی طرف جا رہے تھے راستے میں برہمنوں کا ایک لڑکا مادھو نظر آ گیا۔اس کی من موہنی صورت دِل پر یوں مرتسم ہوئی کہ چلتے چلتے اس کے گھر پہنچ گئے۔مادھو کو بھی آپ سے پیا ہو گیا۔عزیز، رشتہ داروں نے بہت مخالفت کی، حتیٰ کہ ایک دفعہ قتل کا منصوبہ بنا کر آئے،لیکن موقع پر پہنچے تو وہاں اکیلے شاہ حسین ہی نظر آئے۔بالآخر انہیں شاہ حسین اور مادھو کی محبت کو پاکیزہ تسلیم کرنا پڑا۔آج دونوں ہستیاں ایک ہی جگہ دفن ہیں۔اسی لئے شاہ حسین کو عوام مادھو لال حسین کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ایک دفعہ مادھو کے والدین نے اُسے ہردوار کے میلے میں ساتھ جانے کے لئے کہا تو شاہ حسین نے مادھو کو یہ کہہ کر روک لیا کہ ہم تمہیں خود بھیجیں گے،چنانچہ اشنان کے دن آپ نے مادھو کے پاؤں اپنے پاؤں پر رکھے اور اُسے آنکھیں بند کرنے کو کہا۔

مادھو اپنے والدین کے پاس ہردوار پہنچا اور ان کے ساتھ مل کر اس نے اشنان کیا۔ کہا جاتا ہے کہ مادھو یہ کرامت دیکھ کر مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ اس نے اپنی بقیہ زندگی مُرشد کے قدموں ہی میں رہ کر گزار دی۔ شاہ حسین نے داڑھی منڈوا کر اور شراب کی صراحی ہاتھ میں میں اٹھا کر دراصل فرقہ ملامتیہ سے اپنا تعلق جوڑ لیا تھا۔اس فرقے کے لوگ دانستہ طور پر اپنا ظاہر یوں بنائے رہتے ہیں کہ لوگ اُنہیں ملامت کریں،بُرا بھلا کہیں،اس طرح سے ان کے روحانی مدارج میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک دفعہ مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر لاہور آیا تو اس نے شاہ حسین کی زیارت کرنا چاہی۔سرکاری اہلکار شاہ حسین کو پکڑ کر اس کے سامنے لائے تو اس وقت بھی ان کے ہاتھ میں صراحی تھی اور داڑھی ندارد۔ معروف عالم دین مُلا عبدالحکیم سیالکوٹی شاہ حسین کے ہم زمانہ تھے، وہ شاہ حسین کی حقیقت سمجھتے تھے، چنانچہ انہوں نے مرید ہونے کی التجا کی تو شاہ حسین نے جواب دیا:’’آپ تو باشرع ہیں،مجھے کیوں بدنام کرنا چاہتے ہیں!‘‘شاہ حسین صاحبِ کرامت ولی اللہ تھے، بعداز وفات بھی ان کے روحانی تصرفات جاری رہے، لیکن ان کی صوفیانہ شاعری کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔انہوں نے صرف کافی کی صنف کو اختیار کیا اور اس میں ایسے ایسے روحانی تجربات سمو دیئے کہ آج بھی انہیں معرفت کا خزانہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کافیوں میں انسان، کائنات اور ذات باری تعالیٰ کے مسائل و معاملات مختلف علامتوں کی صورت میں بیان ہوئے ہیں۔

شاہ حسین کا تعلق چونکہ محنت کش طبقے سے تھا اس لئے انہوں نے اپنے پیشے(بافندگی) سے متعلق لفظیات بھی اختیار کی جیسے چرخہ، پونیاں، ترنجن، ترکلا وغیرہ اور سماجی رشتوں کے پردے میں بھی حقائق و معارف کا درس دیا ہے جیسے سوہرا گھر، پیکا گھر وغیرہ۔ نسوانی لب و لہجے نے کافیوں کو غنائیت کی خوبی سے مالا مال کر دیا ہے۔خاص طور سے دُنیاوی زندگی کی بے ثباتی اور آخرت سنوارنے کی فکر قاری کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ربا میرے حال دا محرم توں۔۔ اندر تُوں باہر تُوں، رُوم رُوم وچ تُوں ۔۔ تُوں ہیں تانا،تُوں ہیں بانا، سبھ کجھ میرا تُوں ۔۔ کہے حسین فقر سائیں دا، مَیں ناہیں سبھ تُوں ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھی لوح قلم دی قادر ۔۔ نی مائے موڑجے سکنی ایں موڑ ۔۔ ڈولی پائے لَے چلے کھیڑے، ۔۔ نہ میتھوں عُذر نہ زور ۔۔ رانجھن مینوں کُنڈیاں پائیاں ۔۔ دِل وچ لگیا شور ۔۔۔ مچھی وانگوں مَیں پئی تڑفاں ۔۔۔ قادر دے ہتھ ڈور ۔۔ کہے حسین فقیر سائیں دا ۔۔ کھیڑیاں دا کوڑا ازور ۔۔ شاہ حسین 1599ء میں واصل بحق ہوئے۔ ان کا مزار پہلے پہل شاہدرہ کے نزدیک تھا، لیکن جب دریا نے اپنا رُخ تبدیل کر لیا تو جسدِ مبارک کو باغبانپورہ کے شمال میں وہاں دفن کیا گیا،جہاں اب ان کی خانقاہ واقع ہے۔ جب ان کے خلیفہ مادھو 1646ء میں فوت ہوئے تو انہیں شاہ حسین کی قبر کے ساتھ ہی دفن کیا گیا۔ مغل بادشاہ جب کبھی لاہور آتے تو حضرت شاہ حسینؒ کے مزار پر حاضری ضرور دیتے۔

مغل گورنر لاہور نواب زکریا خان نے تو خانقاہ کے مغرب کی جانب مسجد بنوائی تھی، جو ہنوز موجود ہے۔ جہاندار شاہ جب اپنے بھائیوں سے تنگ آ کر لاہور پہنچا تو اس نے منت مانی کہ اگر مجھے اقتدار ملا تو مَیں مزار پر سونے کی چوبوں کا تنبو ڈالوں گا اور اشرفیوں کی دو دیگیں نذر کروں گا، چنانچہ جب وہ دوبارہ سریر آرائے تخت ہوا تو صدق دِلی کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ بھی شاہ حسین کا عقیدت مند تھا،اس نے کئی علاقوں کی زمینیں مزار کے نام کر دی تھیں۔ شاہ حسین کے مزار پر سال میں ایک دفعہ میلہ لگتا ہے۔پہلے قمری حساب سے یکم رجب کو لگتا تھا، اس طرح سے عرس میلہ کی تاریخ کبھی سردیوں میں اور کبھی گرمیوں میں آ جاتی تھی۔ یوں دُور دراز سے آنے والوں کو موسموں کے ادل بدل سے مشکلات پیش آتی تھیں۔ چنانچہ 1863ء سے قمری تاریخ بدل کے انگریزی مہینے مارچ کا آخری ہفتہ طے کیا گیا۔اس رات مزار اور اس کے احاطے میں دیئے جلائے جاتے ہیں، اس حوالے سے لوگوں میں اس عرس کا نام میلہ چراغاں پڑ گیا۔یہ میلہ پہلے شالامار باغ کے اندر لگتا تھا،لیکن قیامِ پاکستان کے بعد میلہ باغ کی چار دیواری سے باہر لگنے لگا۔چراغاں کا دلکش سماں دیکھنے کے ساتھ ساتھ لوگ مزار پر فاتحہ پڑھنے کے بعد شالامار باغ کی سیر بھی کرتے ہیں جو مزار کے نزدیک ہی ہے۔یہ میلہ ایک اعتبار سے ایک قومی تہوار بن گیا ہے،جس میں شہری اور دیہاتی ایک سا ذوق و شوق رکھتے ہیں۔(ش س م)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*